معافی کی تسلّی

معافی کی تسلّی

ایک سپاہی سے نہایت سنجیدہ جرم سرزد ہوا۔ ایک دن وہ ہوش میں آیا، لیکن احساسِ جرم سے وہ بہت مایوس ہوا۔

کیا آپ کو معافی کی تسلی ہے؟ نہ معافی مانگنا نہ ہی نیک کام کرنا کافی ہیں۔ صرف اُس پر ایمان رکھنے سے معافی حاصل ہوتی ہے جو المسیح نے ہماری خاطر کیا ہے۔ اُنہوں نے اپنی جان ہماری خاطر دی۔

آخر میں سپاہی کو المسیح کے وسیلے سے معافی اور دلی سکون حاصل ہوا۔